ٹیسٹ میچ میں ٹاس کی رسم کو ختم کرنے کی تجویز

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے تجویز پیش کی ہے کہ ٹیسٹ میچوں میں سکہ اچھال کر ٹاس کرنے کو ختم کر دیا جائے جس پر سابق جنوبی ایشیا کے کپتانوں نے اس تجویز کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجویز پر غور نہیں کرنا چاہیے۔

سکہ اچھال کر ٹاس کرنے کی رسم پہلی بار انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 1877 میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس تجویز پر رواں ماہ ممبئی میں ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔اس تجویز کی توجیہہ یہ ہے کہ میزبان ٹیم کے مہمان ٹیم پر ایڈوانٹیج کو کم کیا جائے۔ میزبان ٹیم اپنے فائدے کی وکٹ بناتے ہیں جو اس کے کھلاڑیوں کے لیے سودمند ہوتی ہے اور اس وجہ سے کئی بار یکطرفہ میچ ہوتے ہیں۔آئی سی سی کے اجلاس میں پیش کی جانے والی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ٹاس ختم کر کے مہمان ٹیم کو موقع دینا چاہیے کہ وہ بیٹنگ یا فیلڈنگ کا فیصلہ کرے۔انڈیا کے سابق کپتان بشن سنگھ بیدی نے مقامی میڈیا سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا مجھے اس تجویز کی سمجھ نہیں آ رہی۔ سب سے پہلے تو صدیوں پرانی رسم کے ساتھ کیوں چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں؟انڈیا ہی کے دلیپ ونگسارکر نے اعتراف کیا کہ وہ کافی مایوس ہیں کہ میزبان ٹیم اپنے فائدے کی وکٹ بناتی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ٹاس کی رسم کو ختم کر دینا اس کا حل نہیں ہے۔اگر اس تجویز کا واحد مقصد وکٹ کی تیاری میں میزبان ٹیم کو فائدہ پہنچانے سے روکنا ہے تو آئی سی سی نیوٹرل وکٹ بنانے والے کیوں نہیں تجویز کرتی۔

 

جنوبی افریقہ کے بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز نے  ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

اپنے 14 سال کے عرصے پر محیط کیرئیر میں اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنی ملک کی 114 ٹیسٹ میچز، 228 ایک روزہ میچز اور 78 ٹی ٹوئنٹی میچز میں نمائندگی کی ہے۔ٹوئٹر پر جاری کی گئی ویڈیو میں اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا کہ اب وہ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'میں نے اپنی باری پوری کر لی اور سچ یہ ہے کہ میں اب تھک گیا ہوں۔گذشتہ چند عرصے سے اے بی ڈی ویلیئرز انجری اور تھکاوٹ کی وجہ سے جنوبی افریقہ کی جانب سے تمام میچوں میں شرکت نہیں کر رہے تھے اور چند حلقوں کی جانب سے ان کے فیصلے پر تنقید کی جا رہی تھی۔

چین کے ایک معزور کوہ پیما نے چالیس سال کے بعد ایورسٹ سر کر لیا

زی بؤیو اس سے پہلے، 1975 میں ایورسٹ کو سر کرنے کے قریب پہنچے تھے تاہم ایک زبردست طوفان آنے کے بعد انھوں نے اپنا بستر ایک بیمار ساتھی کو دے دیا۔ جس کے بعد سردی کی وجہ سے انھیں فراسٹ بائٹ ہوگیا اور ان کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئیں۔لیکن اب چالیس سال کے بعد، انہتر سال کی عمر میں وہ ایورسٹ کو دونوں ٹانگوں سے معزوری کے باوجود سر کرنے والے دوسرے انسان بن گئے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ نیپال کی سمت سے ایورسٹ سر کرنے والے پہلے معزور کوہ پیما ہیں۔زی نے جب 1975 میں ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کی تھی تو آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر انھیں اور ان کے تین ساتھیوں کو ایک خطرناک برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔طوفان کی شدت اور اپنے بیمار ساتھی کی حالت دیکھتے ہوئے انھوں نے ان کو اپنا بستر تو دے دیا لیکن انھیں اس کے نتیجے میں لمفوما ہوگیا۔ جس کے بعد 1996 میں ان کی دونوں ٹانگیں آپریشن کر کے کاٹ دی گئیں۔معذوری کے باوجود انھوں نے ایورسٹ کو سر کرنے کا اپنا خواب ترک نہیں کیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا ان کا خواب تھا۔ اور مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک ذاتی چیلینگ ہے۔ یہ میری قسمت کے ساتھ جنگ ہے۔اس کے علاوہ آسٹریلوی کوہ پیما سٹیو پلین نے ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ کر، کم سے کم وقت میں ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ سٹیو پلین چار سال پہلے ایک حادثے میں تقریباً مفلوج ہو گئے تھے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک سو سترہ دن کے ریکارڈ وقت میں سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کر ليا۔

 
Home