\



 واشنگٹن/تہران /  لندن /  ممبئی:  ایرانی عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری پروگرام میں توسیع کرنے کی صورت میں تہران حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو پرزور مشورہ دیتے ہیں کہ جوہری پروگرام شروع نہ کرے۔ جبکہ امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایران کیخلاف نئی اقتصادی پابندیاں آئندہ ہفتے عائدکی جائیں گی۔

ایک بیان میں ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہاکہ توقع ہے کہ ایران جوہری ہتھیارتیار نہ کرنے کی ضمانت فراہم کرے گا۔ ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ 100 فیصد یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایران پر آخری درجے تک پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالیں گے۔ معاہدے سے پہلے عائد کردہ تمام پابندیاں بحال کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہم اضافی پابندیاں بھی عائد کریں گے۔

دریں اثنا یورپی یونین کمیشن کے صدرجین کلاڈ جنکر نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے یورپ سپر پاورکی حیثیت سے امریکا کی جگہ لے،امریکا اتحادیوں کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیتا، امریکا عالمی تجارت کا ٹھیکیدار نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر یورپی یونین کمیشن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے، یورپی یونین نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی کمپنیوں کے تحفظ کے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جین کلاڈ جنکر نے کہا صدر ٹرمپ کے فیصلے سے ظاہر ہے کہ امریکا اتحادیوں کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیتا، یورپی یونین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران پر پابندیاں لگیں تو ڈبلیو ٹی او کا در کھٹکھٹائیں گے، یورپی یونین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ عالمی تجارت کا ٹھیکدار نہ بنے۔ جبکہ آسٹریلیا نے  امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدہ سے نکلنے  کے فیصلہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے  اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ   ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدہ پر عمل درآمد کروائیں۔

 

Home