سلام آباد (، ایجنسیاں) انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں عمران خان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جس پرعمران خان نے کہاکہ بہت مہربانی،فیصلے کے مطابق عمران خان کی بریت کی وجہ ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کا 13 اکتوبر 2017کو عدالت میں ریکارڈ ہونے والا اپنا بیان ہے۔ جمعہ کو انسداد دہشت گردی عدالت کےتفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو نے دھرنوں کے دوران تشدد کا ذمہ دار عمران خان کو قرار نہیں دیا، جبکہ مدعی مقدمہ کانسٹیبل سجاد نے بھی عمران خان پر تشدد کیلئے اکسانے کا الزام نہیں لگایا جبکہ عینی شاہدین نے بھی عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔عدالت کا کہناہے کہ اس مقدمے میں استغاثہ ملزم عمران خان کی وقوعہ پر موجودگی کو ثابت نہیں کرسکا اور نہ ہی ایسے ثبوت دیئے گئے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ملزم نے ایس ایس پی پر حملہ کرنے کیلئے لوگوں کو اکسایا ہو، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کے بیانات کے بغیر عمران خان کے

خلاف ٹرائل جاری نہیں رکھا جاسکتا لہٰذا عمران خان کو مقدمے سے بری کیا جاتا ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ 25 اپریل کو مذکورہ کیس کی سماعت پر عمران خان کے پیش نہ ہونے پرعدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ 4 مئی تک کیلئےموخر کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔جمعہ کو عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہیں ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کردیا گیا

 

Home