اسلام آباد (، خصوصی رپورٹ) سابق وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے تفتیشی افسر عمران ڈوگرنے احتساب عدالت کو بتایا کہ ر یفرنس میں شامل کسی گواہ نے نہیں کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی بے نامی جائیداد کے اصل مالک نواز شریف ہیں، تفتیش کے دوران ایسی کوئی دستاویز یا رسید نہیں ملی جس سے ظاہر ہو کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کے خریدار نواز شریف ہیں۔ جمعہ کو اسلام آبادکی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کیخلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے آخری گواہ نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جرح مکمل کر لی، جسکے بعد فاضل جج نے ریفرنس کی سماعت پیر 7 مئی تک ملتوی کردی ہے۔ آئندہ سماعت پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز استغاثہ کے آخری گواہ نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر پرجرح کرینگے۔ جمعہ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو احتساب عدالت پہنچے تاہم کیپٹن صفدر عدالت پیش نہ ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر استغاثہ کے گواہ عمران ڈوگر نے نیب کے کسی بھی ریفرنس کی تفتیش کے طریقہ کارسے متعلق عدالت کو بتایا کہ پہلے شکایت آتی ہے، پھر نیب آرڈیننس 1999 کے تحت اس کی جانچ پڑتال ہوتی ہے جس کے بعد شکایت سیل اس شکایت کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ عمران ڈوگر نے کہا کہ شکایت کی تصدیق ہو نے کے بعد انکوائری شروع ہوتی ہے، جسکے بعد انکوائری تفتیش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ استغاثہ کے گواہ نے عدالت کو بتایا کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں ریفرنس فائل ہوتا ہے۔ عمران ڈوگر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شواہد کی روشنی میں ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کی تھی اور تفتیش کرنے کی اتھارٹی مجھے دی گئی تھی۔استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ مواد جے آئی ٹی نے نیب اورایف آئی اے سے اکھٹا کیا اور اس مواد پر عبوری ریفرنس فائل کیا۔اس موقع پرخواجہ حارث نے کہا کہ 18اگست 2017 کا ملزمان طلبی کا نوٹس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے جس پر معزز جج نے کہا کہ کیا یہ اچھا نہیں وکیل صفائی خود نوٹس ریکارڈ پرلانے کا کہہ رہے ہیں۔گواہ نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے سمن کے جواب میں ملزمان کے وکیل امجد پرویزنے خط لکھا، خط میں لکھا کہ نیب ریفرنسز کا فیصلہ کر چکی ہے، کارروائی آنکھ میں دھول جھونکنا ہے۔عمران ڈوگر نے کہا کہ خط میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرنظر ثانی درخواست دائرکررکھی ہے۔استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ 28 دسمبر2017 کو ملزمان کو دوسرا طلبی کا نوٹس بھیجا، اس دوران میں نے راجہ اختر اور رابرٹ ریڈلے کا بیان قلمبند کیا۔گواہ

Home